ہوم ← فتاویٰ ← DAB-F-000020
DAB-F-000020
03 اکتوبر 2026

آن لائن مصنوعات کی تشہیر کرکے کمیشن لینے کا شرعی حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرات مفتیان کرام اس سوال کا جواب مطلوب ہے،
سوال یہ ہے کہ آج کل آن لائن کاروبار کا سلسلہ چل رہا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک ایک آدمی کسی کمپنی کی کوئی چیز مثلا (سوٹ،پرفیوم) کی تشہیر کرتا ہے جب وہ چیز سیل(بک)جاتی ہے تو کمپنی اس آدمی کو 2 فیصد اس کی قیمت کا ادا کرتی ہے۔ اب وہ آدمی اس میں کوئی رقم نہیں لگاتا تاہم اس تشہیر کے عوض کمپنی اسے فروخت شدہ چیز کا دو فیصد ادا کرتی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس آدمی کے لیے اس رقم کا لینا اور اس کاروبار کا حصہ بننا کیسا ہے؟ جزاکم اللہ واحسن الجزاء

الجواب بعون الوہاب و صلی اللہ علی النبی الہادی الامام
آن لائن کاروبار میں کسی چیز کی تشہیر کرکے کمیشن (2 فیصد) لینا جائز ہے، بشرطیکہ فروخت کی جانے والی چیز حلال ہو، کمیشن کا معاہدہ پہلے سے طے ہو، اور اس میں کوئی دھوکہ یا حرام عنصر شامل نہ ہو۔اگر تشہیر کرنے والے کے پاس سامان نہیں ہے اور وہ صرف کمپنی اور خریدار کے درمیان واسطہ (دلال) بنتا ہے، تو اس کا کمیشن لینا جائز ہے، کیونکہ دلال کا کام خریدار اور فروخت کنندہ کو ملانا ہوتا ہے۔

کما فی القرآن المجید:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ
(سورۃ النساء، آیت: 29)

کما فی الحدیث:
"حدثنا أبوبكر قال : حدثنا وكيع قال : حدثنا ليث أبو عبد العزيز قال سألت عطاء عن السمسرة ، فقال : لا بأس بها"
"وحماد عن إبراهيم وابن سيرين (قالوا ) لا بأس بأجر السمسار إذا اشترى يداً بيد"
(المصنف ابن أبي شيبة، ، باب في اجر السمسار،جلد12، صفحہ 247،رقم الحدیث ،٢٣٤٧٦،٢٣٤٧٥ )

کما فی الھدایۃ مع الدرایۃ:
"وما جاز أن يكون ثمناً في البيع جاز أن يكون أجرة في الإجارة؛ لأن الأجرة ثمن المنفعة، فيعتبر بثمن المبيع،وما لا يصلح ثمنا يصلح أجرة أيضًا كالأعيان"
"قوله على أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عَرَقُه وقوله عليه: من استأجر أجيراً فلْيُعلمه أجْرَه"
(الہدایہ، كتاب الإجارات، جلد 6، صفحہ267-268،مکتبہ البشری)

كما قال العلامة ابن عابدين في رد المحتار:
"قَالَ فِي التتارخانية: وَفِي الدَّلَّالِ وَالسِّمْسَارِ يَجِبُ أَجْرُ الْمِثْلِ، وَمَا تَوَاضَعُوا عَلَيْهِ ... وَفِي الْحَاوِي: سُئِلَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أُجْرَةِالسِّمْسَارِ؟ فَقَالَ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ فَاسِدًا؛ لِكَثْرَةِ التَّعَامُلِ، وَكَثِيرٌ مِنْ هَذَا غَيْرُ جَائِزٍ، فَجَوَّزُوهُ لِحَاجَةِ النَّاسِ إلَيْهِ..."
( مَطْلَبٌ فِي أُجْرَةِ الدَّلَّالِ ، ٦/ ٦٣، ط: سعيد)
وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية
(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 560)
"(الدار وأجرة السمسار) هو الدال على مكان السلعة وصاحبها (المشروطة في العقد) على ما جزم به في الدرر، ورجح في البحر الإطلاق وضابطه كل ما يزيد في المبيع أو في قيمته يضم درر"
(فتای شامی،كتاب البيوع / باب المرابحة والتولية،جلد7،صفحہ 353،مکتبۃ دارعالم الکتب)

كما في البحر الرائق :
"هي بيع منفعة معلومة بإجرة معلومة وما صح ثمناً صح أجرة والمنفعة تعلم ببيان المدة كالسكنى والزراعة فتصح على مدة معلومة"
(البحر الرائق، کتاب البیوع،كتاب الإجارة، جلد8، ص: 6-5،مکتبہ دار الکتب العلمیۃ)

کما فی المبسوط:
إعلم أن الاجارة عقد على المنفعة بعوض هو مال والعقد على المنافع شرعا بعوض وهو (الاجارة وجواز هذا العقد عرف بالكتاب والسنة)
(المبسوط للسرخسي، كتاب الإجارة، جلد15/صفحہ 74)
"والسمسار اسم لمن يعمل للغير بالاجر بيعا وشراء ومقصوده من ايراد الحديث بيان جواز ذلك ولهذا بين في الباب طريق الجواز الخ"
"وان استأجره يوما الى الليل بأجر معلوم ليبيع له أو ليشترى له فهذا جائز لان العقد يتناول منافعه هنا وهو معلوم يبيان المدة والاجير قادر على ايفاء المعقود عليه"
(المبسوط، باب السمسار،كتاب الإجارة، جلد15، صفحہ115)

ھکذا فی الھندیۃ:
ما تفسيرها شرعاً : فهي عقد على المنافع بعوض كذا في الهداية، وأما ركنها : فالإيجاب والقبول بالألفاظ الموضوعة في عقد الإجارة
(الفتاوی الھندیۃ، كتاب الإجارة / باب في تفسيرها وركنها وشرائطها، جلد4، صفحہ 459، دارالکتب العلمیۃ)

فقط والله اعلم بالصواب

جواب دینے والے مفتی
محترم مفتی نجیب اللہ حقانی صاحب رکن عالمی مجلسِ مفتیانِ کرام، لاہور (رجسٹرڈ)، پاکستان
علمی مراجعت
حیثیت منظور شدہ
یہ فتویٰ دارالافتاء کے علمی و اداری نظام کے تحت مرتب، مراجعہ اور منظور کیا گیا ہے۔
موضوعات خرید و فروخت اور تجارت